اشفاق عامر

اشفاق عامر

یہیں کہیں کوئی سایہ اداس پھرتا تھا

    یہیں کہیں کوئی سایہ اداس پھرتا تھا وہ عشق تھا جو ترے آس پاس پھرتا تھا اسے بھی لے اڑی اک موجِ کم نما کہیں اور جو تیرے ساتھ ترا غم شناس پھرتا تھا کسی کو کھو کے کوئی گم ہے دشتِ حیرت میں کسی کو پا کے کوئی بدحواس پھرتا تھا عجیب شہر تھا جس میں سکون تھا ہی نہیں کوئی نراس کوئی لے کے آس پھرتا تھا بجھا گئی ہے اسے بھی ہوا زمانے کی چراغ سا جو یہاں بے ہراس پھرتا تھا