مجھے اداس بھی کرتے رہے مرے اندر
-
مجھے اداس بھی کرتے رہے مرے اندر جو پھول کھل کے بکھرے رہے مرے اندر مجھے مٹاتی رہی میری خامشی اکثر مرے ہی خواب بکھرتے رہے مرے اندر میسر آیا نہ ان کو لباس صوتِ و صدا مرے خیال سنورتے رہے مرے اندر اب ان کی مار سے چہرہ بجھا بجھا ہے مرا جو صدمے مجھ پہ گزرتے رہے مرے اندر بڑے جتن سے جلائے تھے کچھ دیے میں نے جو ایک جھونکے سے ڈرتے رہے مرے اندر وہ اشک دل کی زمینوں کو کر گئے شاداب جو قطرہ قطرہ اترتے رہے مرے اندر مری نمو میں رکاوٹ بنے رہےعامرؔ جو وسوسے سے ابھرتے رہے مرے اندر