بگڑی ہے اگر بات بنا کیوں نہیں دیتے
بگڑی ہے اگر بات بنا کیوں نہیں دیتے بچھڑے ہوئے یاروں کو ملا کیوں نہیں دیتے تصویر میں کیا کیا ہے پسِ رنگ بھی موجود اب دیکھنے والوں کو دکھا کیوں نہیں دیتے اس موڑ سے آگے تو کوئی موڑ نہیں ہے اب مجھ کو مرے گھر کا پتا کیوں نہیں دیتے آنکھوں میں مچلتی ہیں کسی کل کی امیدیں تم آج ہی وہ کل بھی دکھا کیوں نہیں دیتے پھیلا ہے بہت خام خیالی کا دھندلکا یہ منظرِ بے رنگ مٹا کیوں نہیں دیتے بے سمت بڑھی جاتی ہے جمعّیتِ الفاظ اس بھیڑ کو معنی کا پتا کیوں نہیں دیتے آگے تو وہی خلوتِ بے فیض ہے عامرؔ گزری ہوئی گھڑیوں کی صدا کیوں نہیں دیتے