اشفاق عامر

اشفاق عامر

شہر خالی ہو گئے ویراں ہوئے بازا ر بھی

    شہر خالی ہو گئے ویراں ہوئے بازا ر بھی گھر میں قیدی ہوگئے سب یار بھی اغیار بھی سست رو بھی گرتے پڑتے سب یہاں تک آ گئے رک گئے ہیں جس جگہ آ کر سبک رفتار بھی اپنی تنہائی کی لہروں میں گھرا بیٹھا ہوں میں شورِ دریا بھی جہاں قیدی ہے منجدھار بھی اپنے کوچے کے اجڑنے کا میں کیا ماتم کروں اب تو زہریلی ہوا ہے شہر کے اس پار بھی ڈھونڈتا پھرتا ہوں باغِ دل میں پیڑوں کے نشاں پھونک ڈالے ہیں ہوا نے با غ کے آثار بھی