اشفاق عامر

اشفاق عامر

درد کی ندی میں ہے خواب کا پانی زندہ

    درد کی ندی میں ہے خواب کا پانی زندہ آنکھ کے نیل میں لہریں ہیں پرانی زندہ دن گزرتے ہیں تو مر جاتی ہیں قاتل راتیں دل کے بغداد میں رہتی ہے کہانی زندہ دھوپ اس پیڑ کو بے نم نہیں کر پائے گی جس کی چھاؤں میں ہو پانی کی روانی زندہ دھیان کی میز پہ رکھی ہوئی تصویروں میں روز ہو جاتی ہے اک شام سہانی زندہ باغِ احساس میں کچھ بھی نہیں بدلا اب تک دیکھ ہر پھول میں تیری نشانی زندہ میں جو ہر روز بدلتا ہوں ٹھکانا اپنا مجھ کو رکھتی ہے یہی نقل مکانی زندہ