اشفاق عامر

اشفاق عامر

ہے میرے خواب میں باغِ جمال کی خوشبو

    ہے میرے خواب میں باغِ جمال کی خوشبو یہیں سے اٹھتی ہے تازہ خیال کی خوشبو جواب بعد میں دیکھوں گا کوئی ہے کہ نہیں بکھر گئی مرے اندر سوال کی خوشبو اداس کر گئی پیڑوں کو اور پودوں کو وہ دھیمی دھیمی سلگتی زوال کی خوشبو چراغِ ہجر کی لَو میں دکھائی دینے لگی مرے وجود میں گہرے ملال کی خوشبو گزر کے آتا ہے گزرے دنوں سے آج کا دن کشید ہوتی ہے ماضی سے حال کی خوشبو جہاں بھی ہو گا مجھے دور سے بتا دے گی بہت الگ ہے مرے خوش خصال کی خوشبو تمام شہر مہکتے چلے گئے عامرؔ کہاں کہاں نہیں پہنچتی کمال کی خوشبو