اشفاق عامر

اشفاق عامر

بہت حسین تھے تم اور بہت جواں تھے ہم

    بہت حسین تھے تم اور بہت جواں تھے ہم اک اضطرابِ مسلسل کی داستاں تھے ہم اب اس جگہ پہ ہیں کچھ اور چاہنے والے وہ ایک باغ کا گوشہ کہ کل جہاں تھے ہم ہماری آنکھوں سے ظلمت کا دل لرزتا تھا طلوعِ مہرِ منور کے رازداں تھے ہم ہمارے ہاتھوں سے اب تک مہک سی آتی ہے یہ کل کی بات ہے پھولوں کے درمیاں تھے ہم مچلتی رہتی تھی دل میں اڑان کی خواہش خود اپنے سر پہ خیالوں کا آسماں تھے ہم بکھر گئے تو بھٹکتے ہوئے مسافر ہیں وہ جن رتوں میں چلے تھے تو کارواں تھے ہم