اشفاق عامر

اشفاق عامر

تیرے احساس میں در آیا ہوں

    تیرے احساس میں در آیا ہوں ایسا لگتا ہے کہ گھر آیا ہوں خاک سے رشتہ نبھانے کے لیے آسمانوں سے اتر آیا ہوں روشنیِ فکر و نظر ہو گی یہاں دیکھ کر اہلِ نظر آیا ہوں لوگ بے تاب ہیں سننے کے لیے لے کے میں تازہ خبر آیا ہوں جسم سے رات کی ظلمت دھونے اب کے سورج کے نگر آیا ہوں مجھ میں آباد ہے خوابوں کا جہاں تجھے برباد نظر آیا ہوں روک پائے نہ طلسمات مجھے اس خرابے سے گزر آیا ہوں شب کی تاریک فضا سے عامرؔ جانبِ خوابِ سحر آیا ہوں