اشفاق عامر

اشفاق عامر

زندگی کوئی سزا ہے نہ جزا ہے اےدوست

    زندگی کوئی سزا ہے نہ جزا ہے اےدوست بس یونہی دشت میں یہ پھول کھلا ہے اے دوست وقت کی دین ہے جو درد ملا مان لیا اب شکایت ہے کسی سے نہ گلہ ہے اے دوست پھڑ پھڑاتا ہے خیالوں کا پرندہ دل میں لفظ زندانِ تعطل میں پڑا ہےاے دوست جگمگانے لگے پھر یادوں کے سائے دل میں آنکھ میں شعلۂ غم تیز ہوا ہے اے دوست چلتا پھرتا وہ نظر آیا بہت پاس اپنے اور یہ خواب اداسی کا صلہ ہے اے دوست دیکھ اس بار کوئی اور ہی جھگڑا ہو گا میرے آنگن میں دیا ہے نہ ہوا ہے اے دوست ایک آواز سی آئی ہے کہیں باہر سے اک پرندہ مرے اندر سے اڑا ہےاے دوست بس تجسس میں چلے جاتے ہیں سب لوگ کہیں کوئی منزل ہے نہ منزل کا پتا ہے اے دوست کیسے پہناؤں میں الفاظ کا جامہ اس کو حسن الفاظ کے جامے سے بڑا ہے اے دوست