جارج سیفیرس

جارج سیفیرس

نظم

    ترجمہ: شاداب احمد

     

    بیچ دوپہر کس نے سنی

    سل پر چاقو تیز ہونے کی سسکاری؟

    کون گھوڑے پر سوار آیا

    مشعل اور آتش زنی کا سامان لیے؟

    ہر کوئی ٹھنڈے کرنے کے لیے

    اپنے ہاتھ دھو رہا ہے

    اور کس نے عورت کا

    بچے کا اور مکان کا شکم خالی کر دیا؟

    مجرم کا کوئی سراغ نہیں: غائب

    کون فرار ہو گیا،

    پتھروں پر بجتے سموں کی

    دھمک چھوڑ کر؟

    انہوں نے اپنی آنکھیں منسوخ کر دیں

    اب کون، کس سے، کس کی

    گواہی مانگے!