جارج سیفیرس

جارج سیفیرس

نظم

    ترجمہ: شاداب احمد

     

    تم ان چیزوں کا ذکر کرتے رہے

    جو انہوں نے نہیں دیکھی تھیں،

    اور وہ ہنستے رہے

     

    پھر بھی تاریک دریا میں

    دھارے کے مخالف

    ناؤ کھیتے جانا

    نامعلوم راستوں پر ضد باندھے

    بن دیکھے بھالے بڑھتے جانا

    اور کھوجتے رہنا وہ لفظ

    جن کی جڑیں گانٹھوں بھرے

    زیتون کے شجر کی طرح گہری ہوں ......

    انہیں ہنس لینے دو

    اور بے قرار رہنا کہ

    وہ ایک جہان دیگر کے باشندے

    آج کی اس حبس بھری تنہائی میں

    اس غارت شدہ وقت میں

    آبسیں......

    انہیں بھول جاؤ

    سمندروں کی ہوائیں اور

    طلوع سمے کی خنکی دائم موجود ہیں

    کوئی ان کی جستجو کرے، نہ کرے