جارج سیفیرس

جارج سیفیرس

نظم

    ترجمہ: شاداب احمد

     

    تم دوبارہ کب بولو گی؟

    بہت سے لوگوں کی اولاد ہیں یہ ہمارے لفظ

    یہ بیجوں کی طرح بوئے جاتے ہیں اور

    شیرخواروں کی طرح پیش کیے جاتے ہیں

    یہ جڑیں پکڑ لیتے ہیں اور خون سے سینچے جاتے ہیں

     

    جیسے صنوبر

    ہوا کی شکل برقرار رکھتے ہیں

    اس وقت بھی جب ہوا گزر چکی ہو

    اور آس پاس کہیں نہ ہو

    اسی طرح لفظ بھی

    آدمی کی شکل برقرار رکھتے ہیں

    خواہ وہ نکل بھاگا ہو اور

    دور دور کہیں نہ ہو

    شاید وہ ستارے کچھ کہنے کی کوشش کرتے ہیں

    جو ایک شب تمہاری عریانی پر سے

    قدم رکھتے گزرے تھے......

    یہی تھے وہ شاید

    لیکن تم کہاں ہو گی اس لمحے

    جب یہاں اس تھیٹر میں وہ

    روشنی آئے گی؟