نظم
ترجمہ: شاداب احمد
اور باوجود ہر بات کے
اس نیند میں یہ خواب
اتنی آسانی سے مسخ ہوتا،
سہم سپنے میں ڈھلتا چلا جاتا ہے
جیسے کوئی مچھلی زیر موج
لشکارا دے کر
گہرائیوں کے کیچ میں گھس رہے
یا کوئی رنگ بدلتا گرگٹ ہو جیسے
شہر میں کہ قحبہ خانہ بن چکا ہے
کسبیاں اور دلال
گلے سڑے غمزے بیچ رہے ہیں:
موج کے اوپر بہتی دوشیزہ
گائے کی کھال اس خاطر اوڑھے ہوئے ہے
کہ جواں سال بیل اس سے جفتی کرے
اور شاعر ...
اس پر گلی کے لونڈے
فضلہ اچھالتے پھرتے ہیں
جبکہ وہ مجسموں سے
رستے لہو پر نظریں باندھے کھڑا ہے
تم پر لازم ہے کہ اس نیند سے
اس جلد سے نکل آؤ
جو تازیانوں کی زد میں رہی ہے