جارج سیفیرس

جارج سیفیرس

نظم

    ترجمہ :شاداب احمد

     

    جب خواب تعبیروں کو پہنچتے ہیں

    اس سمے

    طلوع ہوتے ہوئے مٹھاس بھرے

    اجالے میں

    میں نے ہونٹ دیکھے

    کھلتے ہوئے، ورق ورق

    ایک پتلی سی درانتی افلاک پر مدھم مدھم روشن تھی

    میں ڈرا کہ کہیں انہیں کاٹ ہی نہ ڈالے