نظم
ترجمہ شاداب احمد
خواب آگیں بصیرتیں ہر کسی کو نصیب ہوتی ہیں
پھر بھی ان کا اقرار کوئی نہیں کرتا
ہر کوئی خود کو تنہا سمجھتا ہے
یہ شاندار گلاب ہمیشہ سے
یہیں تھا، تمہارے پہلو کے قریب،
نیند میں غرق ،
لیکن بس اب کہ تمہارے
لبوں نے اس کی سب سے
باہر کی پنکھڑیاں چھولی ہیں
تمہیں اس رقاص کا
گھٹا ہوا بوجھ تو محسوس ہوا ہو گا
اس لمحے جب وہ
وقت کے دریا میں گرا......
بنتے ، پھیلتے، مٹتے
غضب ناک دائرے
عطائے نفس ہے یہ سانس
اسے ضائع نہ کرو