آئینے میں
ترجمہ: کشور ناہید
میرے سینے کے زخم پھر جلنے لگتے ہیں
جب ستارے اتر کر میرے جسم و جاں میں گھل جاتے ہیں
اور جب لوگوں کے قدموں تلے خاموشی کچلی جاتی ہے
وقت کے سمندر میں یہ ڈوبتے پتھر
مجھے کب تک اپنے ساتھ گھسیٹتے چلیں گے
یہ پھیلا، بپھرا سمندر
کون اسے خشک کر سکے گا،
میں ہر صبح اپنے ہاتھوں کو ذلت اور پراگندگی میں آلودہ دیکھتا ہوں
میں ایسا کرنے پر مجبور ہوں
میں اذیتوں سے بنی ہوئی ایک چٹان ہوں
میں دیکھتا ہوں کہ درختوں نے مرے ہوؤں کی سیاہ طمانیت کو جذب کرکے
مسکراہٹوں کو سجایا ہے
مگر یہ وہ مسکراہٹ ہے جو مجسموں کے چہروں پہ عیاں نہیں ہوتی ہے