منظر
ترجمہ: کشور ناہید
شام یوں آتی ہے!
جیسے ایک چڑیا جس کے پر ٹوٹے ہوں
اور جو سالہا سال تک اڑتی رہی ہو
وہ چڑیا جو اب تمازت اور ہوا بھی
برداشت کرنے کے قابل نہ ہو،
شام یوں آتی ہے!
سبز گھاس پر
تین ہزار فرشتوں نے تمام دن ننگے تانبے کی طرح رقص کیا ہے
اور پھر زرد شام ہوتی ہے
تو تین ہزار فرشتے اپنے پروں میں چھپ کر کتا بن گئے،
جسے سب بھول چکے ہیں
جو تنہائی میں بھونکتا ہے
اپنے آقا کو تلاش کرتا ہے
یا ظہور ثانی کے انتظار میں ہے
یا پھر کسی ہڈی کو چبانے کا خواہاں ہے
اب مجھے صرف اور صرف خاموشی کی تمنا ہے
اب مجھے کسی پہاڑی پر یا ساحل سمندر پر
ایک جھونپڑی کی تمنا ہے
اور میں اس جھونپڑی میں کھڑکی کے سامنے
نیلے سمندر کی طرح پھیلی ہوئی نیلاہٹ دیکھنا چاہتا ہوں
میں چاہتا ہوں میرے دروازے میں
تار پہ منڈھے ہوئے کاغذ کی شکل میں مصنوعی کارنیشن ہی لگا ہو
تاکہ اسے ہوا آسانی سے اپنے قابو میں کر سکے
شام ہو گی
بھیڑوں کے گلے خیابانوں کی سمت ایک اچھے خوشگوار تصور کی طرح پلٹیں گے
اور میں سونے کے لیے لیٹ جاؤں گا
کیونکہ میرے پاس روشن کرنے کے لیے ایک موم بتی بھی نہیں
روشنی نہیں کہ میں پڑھ سکوں