مری چوڑی کھنکھتی ہے زمانہ ہو گیا ہے
-
مری چوڑی کھنکھتی ہے زمانہ ہو گیا ہے وصی شاہا ! ترا کنگن پرانا ہو گیا ہے یہ رسم خودنمائی بھی نبھائی جا چکی ہے تعارف جتنا ہونا تھا کہا نا ، ہو گیا ہے مرے پاوں زمیں پر لگنے والے اب نہیں ہیں مرا اک شخص کے دل میں ٹھکانہ ہو گیا ہے درختوں سے سلوک ناروا رکھا گیا تھا پرندہ آج بستی سے روانہ ہو گیا ہے اسے کہہ دو کہ اب ہجراں کا موسم آن پہنچا دل ناداں بہت ہنسنا ہنسانا ہو گیا ہے مرید خاص ہوں عشقا ! تو سر پہ ہاتھ رکھ دے تیرے قدموں میں میرا آستانہ ہو گیا ہے