محسوس ہوا خود پہ ، تو ہم بانٹ رہے ہیں
-
محسوس ہوا خود پہ ، تو ہم بانٹ رہے ہیں سب اہلِ محبت ہیں جو غم بانٹ رہے ہیں تو اور کسی کام فرشتوں کو لگادے مالک مری بستی میں الم بانٹ رہے ہیں ہر سمت دعا ہے کہ مہک جائیں فضائیں کچھ پھول ہیں جو آخرِ دم بانٹ رہے ہیں لفظوں کو حقارت سے نہ دیکھو کہ سخن میں امید ہے جو اہلِ قلم بانٹ رہے ہیں دریاؤں کی یہ دریا دلی ٹھیک نہیں ہے جو خستہ مکانوں میں بھی نم بانٹ رہے ہیں امداد غریبوں کے لیے لائے تھے حاکم اب بیٹھ کے حجرے میں رقم بانٹ رہے ہیں