اس پہ ناسور کا آخر میں گماں ہوتا ہے
-
اس پہ ناسور کا آخر میں گماں ہوتا ہے ورنہ آغاز میں غم راحتِ جاں ہوتا ہے آخرِ کار پہنچ جاتے ہیں انجام کو خواب راکھ بچ جاتی ہے آنکھوں میں دھواں ہوتا ہے پھر رتِ زرد سے اشجار گلے ملتے ہیں پہلے پہلے تو بڑا خوفِ خزاں ہوتا ہے وہ تحیر ہے کہ سکتے میں بدن آ جائے خون مشکل سے رگِ دل میں رواں ہوتا ہے بات تو عام سی ہوتی ہے مگر سنتے ہیں لوگ وہ جو اس شخص کا اندازِ بیاں ہوتا ہے ہم نے جی جان سے اس بار ادھیڑے ہیں رفو تھوڑی وحشت میں گذارا ہی کہاں ہوتا ہے