کومل جوئیہ

کومل جوئیہ

طشت تھا طشت میں تلوار مرے سامنے تھی

    طشت تھا طشت میں تلوار مرے سامنے تھی میں نہ لڑتی تو ، مری ہار مرے سامنے تھی کتنی دیواریں گراتی ہوئی آئی اُس تک اور وہاں جسم کی دیوار مرے سامنے تھی استفادہ نہیں کر پائی کسی عشق سے میں یہ سہولت یونہی بیکار مرے سامنے تھی اتنا مشکل تو کوئی کام نہیں ہوتا ہے زندگی جتنی گراں بار مرے سامنے تھی جس کے سب عیب میں لوگوں سے چھپاتی تھی وہ دوست اِن دنوں آئینہ بردار مرے سامنے تھی کان دھرتی تو کبھی آگے نہ بڑھ پاتی میں یہ صداؤں کی جو بھرمار مرے سامنے تھی میں نے جب آ کے فضا اپنی تراشی ، کومل ایک سے ایک سخن کار مرے سامنے تھی