ہر گلی، ہر ایک گاؤں اور گھر خطرے میں ہے
-
ہر گلی ، ہر ایک گاؤں اور گھر خطرے میں ہے ظالمودیکھو ادھر دیکھو ، نگر خطرے میں ہے سندھ بھی ، میرا بلوچستان بھی ، پنجاب بھی شاخ کا کیا تذکرہ پورا شجر خطرے میں ہے شورِ دریا سن امیرِ شہر تجھ کو علم ہو کیسے ظالم موج کے ہاتھوں بشر خطرے میں ہے تجھ کو کیا کچے گھروں کے ٹوٹنے کا درد ہو کونسا تیرا یہ لُوٹا مال و زر خطرے میں ہے بے گھری کا خوف بھی ہے بھوک بھی ہے ، کرب بھی کاروانِ زندگی شام و سحر خطرے میں ہے