کومل جوئیہ

کومل جوئیہ

سیاہ شب سے ابھی محوِ انتقام ہیں کیا؟

    سیاہ شب سے ابھی محوِ انتقام ہیں کیا ؟ چراغ ، دیکھنا اب بھی اسیرِ بام ہیں کیا ؟ ہر ایک رنگ کی وحشت ہمیں عطا کی ہے ہماری ذات پہ خوشیوں کے پل حرام ہیں کیا ؟ کوئی سبق نہیں سیکھا ہے فِیل والوں سے یہ لوگ آج بھی ویسے ہی بے لگام ہیں کیا ؟ ذرا سی چوٹ پہ آنسو بہانے لگ جاؤں گُہر یہ اتنے ہی سستے ہیں ؟ اتنے عام ہیں کیا ؟ میں کتنے دشمنوں میں گھر چکی ہوں ، حیرت ہے ؟ کہاں سے آ گئے یہ لوگ ؟ ان کے نام ہیں کیا ؟ رہِ جُنوں پہ چلے تو چلیں گے مرضی سے جو تم کہو کئے جائیں وہ ، ہم غلام ہیں کیا ؟