کومل جوئیہ

کومل جوئیہ

قربت سے ناشناس رہے، کچھ نہیں بنا

    قربت سے ناشناس رہے ، کچھ نہیں بنا خوش رنگ ، خوش لباس رہے ، کچھ نہیں بنا ہونٹوں نے خود پہ پیاس کے پہرے بٹھا لیے دریا کے آس پاس رہے ، کچھ نہیں بنا اب قہقہوں کے ساتھ کریں گے علاجِ عشق ہم مدتوں اداس رہے ، کچھ نہیں بنا جس روز بے ادب ہوئے ، مشہور ہوگئے جب تک سخن شناس رہے ، کچھ نہیں بنا اس شخص کے مزاج کی تلخی نہیں گئی ہم محوِ التماس رہے ، کچھ نہیں بنا پھر ایک روز ترکِ محبت پہ خوش ہوئے کچھ دن تو بدحواس رہے ، کچھ نہیں بنا