یہ نہ کہیے کہ ہوا شہر کی صحرائی ہے
-
یہ نہ کہیے کہ ہوا شہر کی صحرائی ہے گھر کی دیوار ہی بوسیدہ نکل آئی ہے مرہمِ وقت سے کچھ ٹھیک نہیں ہو پایا اب ترے ہاتھ مرے زخم کی تُرپائی ہے میں اندھیروں سے اسی زعم میں لڑ پڑتی ہوں کچھ چراغوں سے مری اچھی شناسائی ہے وحشتِ دل میں ابھی اتنی شکستہ بھی نہیں کیوں مجھے کھینچ کے دریا کی طرف لائی ہے صبر کے گھونٹ بہت ترش سہی ، پی لیجے چیخ اٹھنے میں جو اندیشہِ رسوائی ہے اب محبت کی کہانی نے کشش کھو دی ہے اب نہ وہ رونقِ دل ہے نہ وہ رعنائی ہے