شورِ اَوراقِ خِزانی کوئی سُنتا ہی نہیں
-
شورِ اَوراقِ خِزانی کوئی سُنتا ہی نہیں میں سُناتا ہُوں کہانی، کوئی سُنتا ہی نہیں میں نہیں ہُوں، مری خُو بُو فقط اِس خاک میں ہے میں نہ باقی ہُوں نہ فانی، کوئی سنتا ہی نہیں گریہ کرتا ہوں کہ ویراںہوئے جاتے ہیں شہر محوِ آزار رَسانی کوئی سنتا ہی نہیں کیسی آتش میں گھری خلق اماں ڈھونڈتی ہے کون چلاتا ہے، ’’پانی‘‘، کوئی سُنتا ہی نہیں میں صدا کرتا ہوں، ’’اِک بارِ جُنوں دوش پہ ہے مار ڈالے گی گِرانی‘‘، کوئی سُنتا ہی نہیں