اُٹھ پائے تو اِس اُفتاد نگر سے نکلیں گے
-
اُٹھ پائے تو اِس اُفتاد نگر سے نکلیں گے لا معلوم ہیں ہم، معلوم کے ڈر سے نکلیں گے پھُوٹ بہیں گے آبلے دِل کے یُوں بھی آخرِ ہجر آنسُو ہیں آخر کو دیدۂ تر سے نکلیں گے کھو جائیں گے خوابوں کے اِک اور ہی منظر میں جس پہ کوئی گریاں ہو گا اُس در سے نکلیں گے دیکھنا یہ بھی منظر، اِک آواز کے آنے پر روکنے والے روکیں گے ہم گھر سے نکلیں گے اور نہ کُچھ نکلے گا دفترِ خواب سے داورِ حشَر کُچھ نالے کُچھ گیت دلِ کافَر سے نکلیں گے