علی افتخار جعفری

علی افتخار جعفری

برسرِ باد ہوا اپنا ٹھکانا سرِ راہ

    برسرِ باد ہوا اپنا ٹھکانا سرِ راہ کام آیا مِرا آواز لگانا سرِ راہ یہ جو مِٹّی تنِ باقی کی، لیے پھرتا ہوں چھوڑ جاؤں گا کہیں یہ بھی خزانہ سرِ راہ دِل ملاقات کا خواہاں ہو تو خاک اُڑتی ہے بچ کے چلتا ہوں تو ملتا ہے زمانہ سرِ راہ دوستو! فرطِ جُنوں راہ بدلتا ہے مری کس نے چاہا تھا، تمہیں چھوڑ کے جانا سرِ راہ تم کسی سنگ پہ اب سر کو ٹکا کر سو جاؤ کون سنتا ہے شبِ غم کا فسانہ سرِ راہ رہِ دُنیا میں ٹھہرنا تو نہیں تھا دل نے مِل گیا ہو گا کوئی خواب پُرانا سرِ راہ