علی افتخار جعفری

علی افتخار جعفری

اب یہ گلیاں یہ مکاں شاد رہیں کیا

    اب یہ گلیاں یہ مکاں شاد رہیں کیا تُم چلے ہو تو یہ آباد رہیں کیا ایک زنجیر کے حلقے ہیں شب و روز کچھ کٹے، نہ کٹے، یاد رہیں کیا اَے زمیں کیا یہ مقدر کا لکھا ہے وہ جو مِٹّی ہوئے برباد رہیں کیا دل بھی زنجیر ہے اِک، دہر بھی زنجیر قید در قید ہے، آزاد رہیں کیا گِر کے اٹھیں بھی مسافر تو نہ پوچھیں چلنے والے تہِ اُفتاد رہیں کیا