زاہد ڈار

زاہد ڈار

ایک معمولی آدمی

    سچ پوچھو تو دھرتی مجھ کو بھاتی ہے انسانوں کی باتوں سے تو لالچ کی بو آتی ہے سچ پوچھو تو میں کوئی انسان نہیں، دُنیا کی تہذیب و ترقی پر میرا ایمان نہیں غفلت ہو یا اس جیون کو موت کہو، موت بھلی اس بستی کی گلی گلی چاند ستاروں سے بہتر ہے سچ پوچھو تو طوفانوں میں چکر کھاتی ناؤ مجھ کو غیر آباد کناروں سے بہتر ہے