ایک رات
-
پھر پریشانی کا کارن ہے یہ رات پھر کوئی آواز دیتا ہے مجھے خامشی کے جل میں پھر پتھر گرا/ ہلچل ہوئی لہریں اُٹھ کر آسمانوں تک گئیں/ تھک گئیں پھر گندگی کے ڈھیر پر آ کر گریں پھر کوئی آواز دیتا ہے مجھے چھوڑ یہ/ سنسار میں رکھا ہے کیا صورتیں نفرت میں ہیں بھیگی ہوئی مورتیں بے جان ہیں موہ اب کس چیز کا ہے؟ چھوڑ دے پھر کوئی آواز دیتا ہے مجھے مان بات آسمان پر کچھ نہیں ، کچھ بھی نہیں مان بات پھر پریشانی کا کارن ہے یہ رات