زاہد ڈار

زاہد ڈار

لڑکوں کا گیت

    روشنی کی جستجو میں ہم چلے شہر میں لیکن اندھیرے کا ہے راج، چاند، سورج اور ستارے ماند ہیں، بادشاہوں کا زمانہ لد گیا، دیوتا بھی مر گئے، وقت کے دریا میں پتوں کی طرح بہتے ہیں ہم، کرب میں،تنہائی میں کس کا اب ڈھونڈیں سہارا، کس کی اب مانگیں پناہ، کون سی ہے ذات جس کی ذات میں اپنی ہستی کو ڈبو کر روح کو اونچا کریں، امن اور آسودگی پائیں کہاں، روشنی پائیں کہاں، تم ہی بتلاؤ ذرا، اے لڑکیو! تم ہی بتلاؤ ذرا، اے لڑکیو!