تلاش
ایک ویران، اندھیرا رستہ رات کا وقت، اندھیرا رستہ شہر خاموش، اندھیرا رستہ نیند میں غرق ہے ساری دُنیا اور مَیں جاگتا ہوں، ڈھونڈتا ہوں اُس کو جو چیز کبھی کھوئی تھی نام معلوم نہیں اُس کا مُجھے اور معلوم نہیں اُس کا پتہ اور معلوم نہیں آج اِس شہر میں وہ ہے کہ نہیں اَن گِنت شہروں سے مَیں گزرا ہوں رات کے وقت اندھیرے میں کبھی صُبح کے وقت اُجالے میں کبھی وہ کسی شہر میں موجود نہیں جانے کس شہر میں کھویا تھا اُسے آج اتنا بھی مجھے یاد نہیں دِل میں اِک دُھندلا سا احساس ہے باقی اب تک اُس کا، جس چیز کو کھویا تھا کبھی اَن گِنت صدیاں مرے پیچھے ہیں اَن گِنت صدیاں ابھی آئیں گی جانے مَیں اُس کو کبھی پا بھی سکوں گا یا نہیں