زاہد ڈار

زاہد ڈار

نظم

    میں بھی ہوں وقت کی بے سود جنوں خیز ہَواؤں میں اُمنگوں کی سُلگتی ہُوئی تنہائی میں خاموش مسرّت کا پرندہ کہ جسے اُونچے پہاڑوں کی بلندی سے اُترنے کی سزا شہر کی تاریک نگاہوں کی ہوس ناک بدن سوز تمناؤں کے دوزخ میں سَدا آنسوؤں اور آہوں کے سنگیت پہ لفظوں کے نئے رُوپ کی تصویر بنانا ہے کبھی گہرے سمندر میں جزیروں کی طرف بہتا ہے سُورج کی طرف دیکھتے رہنا ہے کہیں موم پگھل جائے نہ تخلیق فنا ہو نہ کہیں جائے کہیں ڈوب نہ جائے یہ زمیں وقت کی بے سود جنوں خیز ہَواؤں میں جہاں کچھ بھی نہیں آگ ہے منزل کبھی پانی کبھی کچھ اور کبھی کچھ بھی نہیں کہتے ہیں انسان خیالات کے جنگل میں بھٹکتا ہُوا راہی ہے سمجھتا ہے کہ آزاد مگر جبر کی دیوار سے ٹکراتا ہے سر پھوڑتا ہے مرتا ہے جی اُٹھتا ہے پھر مرتا ہے اور یوں ہی پریشان چلا آتا ہے صدیوں میں کبھی امن کا اِک لمحہ بھی آتا نہیں آتا ہے تو وہ سوچ کے اُلجھاؤ کو کچھ اور بھی اُلجھاتا چلا جاتا ہے بس ایک ہی راحت ہے مگر وہ بھی تصور کے سوا کچھ بھی نہیں سوچتا ہوں جسم تو بس راکھ کا اک ڈھیر ہے اور آگ تو نروان ہے انسان کی تقدیر میں یہ آگ نہ وہ آگ نہ لذت ہے آزادی ہے