جہالت
رات ویران ہے، خاموشی ہے امن اور چین کی اس وادی میں کوئی دیوار نہیں، کوئی نہیں جو مرے ذہن کو پابند کرے، جس طرح روشنی کرتی ہے سفر ذہن تاریک خلاؤں میں سفر کرتا ہے تیسری آنکھ مری رہبر ہے یاد آتے ہیں پُرانے منظر جنگلوں، شہروں، پہاڑوں، صحراؤں اور دریاؤں کے دلکش منظر چاندنی، دُھوپ، ہَوائیں، بادل گھاس اور پُھول بُلاتے ہیں مُجھے دلرُبا چہرے بُلاتے ہیں مُجھے ذہن آزاد پرندے کی طرح ہر طرف جاتا ہے، لوٹ آتا ہے امن اور چین کی اِس وادی میں ذہن جس چیز کا متلاشی ہے وہ کہاں ہے! مجھے معلوم نہیں کس کو معلوم ہے؟ معلوم نہیں ذہن کس چیز کا متلاشی ہے؟ مُجھ کو معلوم نہیں، کچھ بھی تو معلوم نہیں رُوح جلتی ہے، بدن جلتا ہے چاندنی، دُھوپ، ہَوائیں، بادل گھاس اور پُھول ..... سبھی جلتے ہیں دِلرُبا چہرے بھی جَل اُٹھتے ہیں شہروں، صحراؤں میں آگ جنگلوں اور پہاڑوں میں بھی آگ امن اور چین کی اِس وادی میں ہر طرف آگ بھڑک اُٹھتی ہے اور مَیں سوچتا ہوں: کیوں مُجھے موت نہیں آجاتی سوچ کی سیڑھیاں چڑھتا ہوں، اُترتا ہوں کبھی یُوں ہی چڑھتا ہوں، اُترتا ہوں کبھی یو ں ہی بے سود جیے جاتا ہوں زندگی کیا ہے؟ مُجھے علم نہیں زندگی کیوں ہے؟ مُجھے علم نہیں زِندگی کس نے بنائی ہے؟ مُجھے علم نہیں کچھ بھی معلوم نہیں، کچھ بھی تو معلوم نہیں