زاہد ڈار

زاہد ڈار

اداسی

    اداسی شہر کی سڑکوں پہ بھوکے شیر کی مانند پھرتی ہے اداسی شہر کی سڑکوں پہ ٹھنڈی اوس کی مانند گرتی ہے اداسی خواب میں آتی ہے سندر ہرنیوں کے روپ میں اکثر اداسی نیند کی، آرام کی دشمن اُداسی ہی اداسی ہے مکانوں میں، درختوں میں نگاہوں میں، خیالوں میں دلوں میں، اور روحوں میں غرض اس شہر کے ہر ایک گوشے میں اداسی ہی اداسی ہے زمیں پر، آسمان پر، چاند میں، سورج کی کرنوں میں اندھیری رات میں، اُجلے سویرے میں گرجتے بادلوں میں اور بارش میں اداسی ہی اداسی ہے یہاں کے گیت میں، سنگیت میں، اور داستانوں میں یہاں کے ناچ میں، اور چتر کاری میں غرض کلچر کی ساری صورتوں اور سارے نقشوں میں اداسی ہی اداسی ہے غرض اس شہر کے لوگوں کے جینے اور مرنے میں اداسی ہی اداسی ہے غرض اس شہر کو، ہم جس میں رہتے ہیں اداسی کا نگر کہیے تو اچھا ہے