مجید امجد

مجید امجد

کیا گریباں چاک صبح اور کیا پریشاں زلف شام

    کیا گریباں چاک صبح اور کیا پریشاں زلف شام وقت کی لامنتہی زنجیر کی کڑیاں تمام دیکھئے تنکے کی ناؤ کب کنارے جا لگے موج ہے دہشت خروش اور سیل ہے وحشت خرام شمع کے دامن میں شعلہ، شمع کے قدموں میں راکھ اور ہو جاتا ہے ہر منزل پہ پروانے کا نام زیست کی صہبا کی روتھمتی نہیں، تھمتی نہیں! ٹوٹتے رہتے ہیں نشے، پھوٹتے رہتے ہیں جام