ایک پر نشاط جلوس کے ساتھ
کون اس اُونچی چھت کی بوسیدہ منڈیروں کے قریب؟ نیچے خلعت پوش بازاروں میں، سیلابِ سرور ناچتے پاؤں، تھرکتی بانہیں، محوِ نغمہ ہونٹ میں بھی آ نکلا ہوں اتنی دور سے دردوں سے چور صرف اس امید پر شاید کہ گزرے اب کے بھی تیرے گھر کے سامنے والی سڑک کے پاس سے اس حسیں تہوار کی رنگینیوں کا کارواں شاید اب کے پھر بھی، شوقِ دید کے احساس سے تو بھی آ نکلے سرِ بام آہ یہ سودائے خام جارہا ہوں زرفشاں پوشاک میں لپٹا ہوا رزفشاں پوشاک کے نیچے دلِ حسرت نصیب اک شرر، پیراہنِ خاشاک میں لپٹا ہوا آج کیوں ان ٹھوکروں کی پے بہ پے افتاد میں اک عجب آسودگی محسوس ہوتی ہے مجھے کیوں اس انبوہِ رواں کی شورشوں کے درمیاں اک حسیں موجودگی محسوس ہوتی ہے پاؤں اٹھتے ہیں لیکن آنکھ اٹھ سکتی نہیں جارہا ہوں میں نہ جانے کس سے شرماتا ہوا میں لرز اٹھتا ہوں کس کی ٹکٹکی کے وہم سے؟ میں جھجک جاتا ہوں کس کے سامنے آتا ہوا؟ کس کا چہرہ ہے کہیں ان گھونگھٹوں کے درمیاں چوڑیوں والی کلائی؟ جھومروں والی جبیں؟ ممٹیوں پر سے پھسلتا ہی نہیں کنکر کوئی کون ہے موجود؟ جو موجود بھی شاید نہیں