مجید امجد

مجید امجد

کوئٹے تک

    صدیوں سے راہ تکتی ہوئی گھاٹیوں میں تم اک لمحہ آ کے ہنس گئے، میں ڈھونڈتا پھرا ان وادیوں میں برف کے چھینٹوں کے ساتھ ساتھ ہر سو شرر برس گئے، میں ڈھونڈتا پھرا راتیں ترائیوں کی تہوں میں لڑھک گئیں دن دلدلوں میں دھنس گئے میں ڈھونڈتا پھرا راہیں دھوئیں سے بھر گئیں میں منتظر رہا قرنوں کے رخ جھلس گئے میں ڈھونڈتا پھرا تم پھر نہ آ سکو گے، بتانا تو تھا مجھے تم دور جا کے بس گئے، میں ڈھونڈتا پھرا برس گیا بہ خراباتِ آرزو، تراغم قدح قدح تری یادیں، سُبو سُبو ترا غم ترے خیال کے پہلو سے اٹھ کے جب دیکھا مہک رہا تھا زمانے میں سو بہ سو ترا غم غبارِ رنگ میں رس ڈھونڈتی کِرن، تری دھن! گرفتِ سنگ میں بل کھاتی آبجُو ترا غم ندی پہ چاند کا پرتو، ترا نشانِ قدم خطِ سحر پہ اندھیروں کا رقص، تو، ترا غم ہیں جسکی رو میں شگوفے، وہ فصلِ سم، ترا دھیان ہے جس کے لمس میں ٹھنڈک، وہ گرم لو ترا غم طلوعِ مہر، شگفتِ سحر، سیاہیِ شب تری طلب، تجھے پانے کی آرزو، ترا غم نگہ اٹھی تو زمانے کے سامنے ترا روپ پلک جھکی تو مرے دل کے رو برو ترا غم