مجید امجد

مجید امجد

اِک شوقِ بے اماں کے یہ نخچیر کون ہیں

    اِک شوقِ بے اماں کے یہ نخچیر کون ہیں اے موجۂ ہوا، تہِ زنجیر کون ہیں دیوارِ دل کے ساتھ بہ پیکانِ غم گڑے آ دیکھ یہ ترے ہدفِ تیر کون ہیں یہ بدلیوں کا شور، یہ گھنگھور قربتیں بارش میں بھیگتے یہ دورہگیر کون ہیں ان ریزہ ریزہ آئنوں کے روپ میں بتا صدیوں کے طاق پر، فلکِ پیر، کون ہیں جن کی پلک پلک پہ ترے بام دور کے دیپ پہچان تو سہی کہ یہ دلگیر کون ہیں امجد، دیارِ لعل و گہر میں کسے خبر، وہ جن کی خاکِ پا بھی ہے اکسیر کون ہیں