اب کے تمہارے دیس کا یہ روپ نیارا تھا
اب کے تمہارے دیس کا یہ روپ نیارا تھا بکھرا ہوا ہواؤں میں سایہ تمہارا تھا گم سم کھڑے ہیں اونچی فصیلوں کے کنگرے کوئی صدا نہیں، مجھے کس نے پکا را تھا رات، آسماں پہ چاند کی منڈلی میں کون تھا تم تھے کہ اِک ستاربجاتا ستارا تھا ان دوریوں میں قرب کاجادو عذاب تھا ورنہ تمہارے ہجر کا غم بھی گوارا تھا دل سے جو ٹیس اٹھی، میں یہ سمجھا، پجاریو پتھر کے دیوتا کا تڑپتا اشارا تھا تالی بجی تو سامنے ناٹک کی رات تھی آنکھیں کھلیں تو بجھتے دِلوں کا نظارا تھا دُنیا کے اس بھنور سے جب اُبھرے دکھوں کے بھید اک اک اتھاہ بھید، خود اپنا کناراتھا پھر لوٹ کہ نہ آیا زمانے گزر گئے وہ لمحہ جس میں ایک زمانہ گزارا تھا