..........کون دیس گیو
..........کون دیس گیو نیناں، ...........کون دیس گیو رُت آئے، رُت جائے، مہاری عمر کٹے رو رو کچرارے، متوارے نیناں، کون دیس گیو دیکھتے دیکھتے اس نگری میں چاروں اور اِک نور بہا ایک گزرتی رتھ سے چھلکا اُمڈ کے جوبن، اہا، اہا راہ راہ پہ پلک پلک نے سیس نوا کے کہا: ”باوری لہرو رس کے شہرو نینو، ٹھہرو، ٹھہرو چھین نہ لو ان ہنستے جُگوں سے سکھ کا سانس اک رہا سہا“ دھول اڑی اور پھول گرے لمحے، خوشبوئیں، جھونکے ابھرے، پھیلے، گئے گئے ایدھر دیکھیں، ادھر دیکھیں، دل کے سنگ نہ کو کون دیس گیو کجرارے، متوارے نیناں، کون دیس گیو اب ان تپتے ویرانوں میں کانٹے چُن چُن بور دُکھیں جانے تم کس پھول بھوم میں جھوم جھوم ہنسو کون دیس گیو کجرارے، متوارے او، نیناں کون دیس گیو