خدا (ایک اچھوت ماں کا تصوّر)
خبر ہے تجھ کو کچھ، رلدو! مرے ننھے! مرے بالک! ترا بھگوان پر میشر ہے اس سنسار کا پالک! کہاں رہتا ہے پرمیشر؟ ادھر آکاش کے پیچھے کہیں دور، اس طرف تاروں کی بکھری تاش کے پیچھے نہیں دیکھا؟ سویرے جوں ہی مندر میں گجربا جا پہن کرنور کی پوشاک وہ من موہنا راجا لیے سونے کا چھابا جب ادھر پورب سے آتا ہے تو ان تاروں کی پگڈنڈی پہ جھاڑو دے کے جاتا ہے نہیں سمجھے کہ اتنا دور کیوں اس کا بسیر ا ہے؟ وہ اونچی ذات والا ہے اور اونچا اس کا ڈیرا ہے یہ دنیا والے، یہ امرت کے رس کے چھاگلوں والے یہ میٹھے بھوجنوں والے، یہ اجلے آنچلوں والے یہ اس کو اپنی لاشیں اپنے مردے سونپ دیتے ہیں عفونت سے بھرے دل اور گردے سونپ دیتے ہیں جنھیں دوزخ کے زہروں میں بھگو کر بھونتا ہے وہ جنھیں شعلوں کی سیخوں میں پروکر بھونتا ہے وہ یہ اس بھگوان کے دامن کو چھو لینے سے ڈرتے ہیں یہ اس کو اپنے محلوں میں جگہ دینے سے ڈرتے ہیں کسی نے بھول کر اس کا بھجن گایا، یہ جل اٹھے کہیں پڑ بھی گیا اس کا حسیں سایا، یہ جل اٹھے غلط کہتا ہے تو نادان تو نے اس کو دیکھا ہے مرے بھولے! ہماری اور اس کی ایک لیکھا ہے