ارے یقین ِ حیات
یہ دور رفتہ تبسم، جو میرے ہونٹوں پر ترے اشارۂ ابرو سے لوٹ آیا ہے یہ زیست کی سوغات! سیاہیوں میں گھر ے طاق و گنبد و ایواں کی اوٹ سے یہ ابھرتی ہوئی شعاعوں کے لپکتے بڑھتے ہات! جو تیرے باغ کے گجرے کلائیوں میں لیے سسکتے لمحوں کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں بڑے غرور کے سات! یہ ایک نقش کف پا، بہ سطح ریگ رواں ترے حریم فروزاں سے ایک اور چراغ بہ سینہئ ظلمات! خروش شام و سحر میں کشید ہوتی ہوئی شراب ِ غم کا یہ اک جام جس میں اتری ہے تجلیوں کی برات! یہ ایک جرعہ زہراب جس میں غلطاں ہیں تری نگاہ کا رس، تیرے عارضوں کے گلاب ترے لبوں کی نبات! اسی اسی ترے پیمانہئ نشاط کے دَور یونہی یونہی ذرا کچھ اور اے یقینِ حیات ارے یقینِ حیات!