عامر سہیل

عامر سہیل

آبنوسی سویرا

    کاسنی آسمانی ہواؤں میں گھلتا ہوا آنجہانی دنوں کا اندھیرا کہاں گھر میں رکھیں مہاجر صداؤں کو اور ان کے پیروں پہ چلتا ہوا آبنوسی سویرا کہاں بے ثمر، بے پلک نیند چھڑکیں سو بستر لگائیں کہاں آنسوؤں کا گھروں آنگنوں کا اجازت نہیں ہے کہ وہ قحط میں آفتوں کے دنوں میں بھی استھان چھوڑیں جدائی کے جدول میں تذلیل کے حاشیے میں ندامت کی تقویم میں بس دلاسوں کے ہندسے۔۔۔ زحل اور مریخ کی ہے نحوست کہیں برکتوں والے گھروں کے چھینٹے نہیں دِکھ رہے ہیں مگر آنجہانی دنوں کا اندھیرا مہینوں کی فرغل میں ناموں کے ادھڑے ہوئے کاج، استر مزاروں پہ بیٹھے ہوئے ہیں مگر منتیں پوری ہونے کی مدت سے پہلے ہی سٹھیا گئے ہیں ڈھلکتی ہوئی گردنیں بے یقینی کے کتبوں پہ رکھے مہاجر صدائیں گھروں، آنگنوں کا پتا پوچھتی ہیں