عامر سہیل

عامر سہیل

نیلی دنیا پیٹھ پہ رکھے

    کچی شریانوں کے اندر کون محبت سینچے گا ابرو دھرے ہتھیلی پر اور آنکھ سے پانسہ پھینکے میلے ماس پہ دھوپ چڑھائے دھوپ سے دُوری کھینچے کون دلاسے دل پہ کاڑھے مٹھی میں دل بھینچے نیلی دنیا پیٹھ پہ رکھے خاکی نقشے کھینچے!