یمن کی عورتیں
حذر اور درگزر کی رات چپ کے دستخط کرتی ہے خط وخال کے بے داغ سبزے پر یمن کی عورتیں خطے میں سب سے خوبصورت ہیں ہوا کے کاسنی چھجے میں ان کی یاد رہتی ہے لہو کی تمکنت میں بے رُخی آباد رہتی ہے مسافر گھاٹیوں سے اور بنجر خواب زاروں سے لپٹتے دشت میں آئے تو قہوے کے درختوں نے روپہلی شاعری کے خواب گوں گیتوں کا دوشالہ بچھایا اور ان کے زرد رو ہاتھوں پہ بیعت کی کہ یمنی عورتیں میلی نہ ہو جائیں تہامہ سے، یمامہ سے ادائے ناز کی مسند پہ متمکن بہشتی چوکٹھے، خیموں کے پیچھے کتھئی تیزابیت کے بیج مٹی میں نہ بو جائیں بہشتی عورتیں میلی نہ ہو جائیں جنہیں اہلِ تفاخر سے نشستِ محملِ غم میں عزاداری کے پروانے ملے ہیں چوب داروں کی کماں داروں کی مادر زاد محجوبی کے افسانے ملے ہیں