عامر سہیل

عامر سہیل

جامنی چڑیا

    جامنی چڑیا! کیوں بدنظم علاقوں بھدی مٹی کے کنکر ڈھیلوں پر اپنے خواب گھسیٹتی ہے کیوں جوڑی دار کواڑوں کے در پیٹتی ہے رگیں پُھلا کر۔۔۔ چونچ کو ٹیڑھا کر کے اپنے حسن کو داغ لگاتی ہو کیوں گھات کے باغ لگاتی ہو دیکھ سمے بیری ہے پنکھ پگھل جائیں گے پنکھ ترے بدنظم علاقوں کی حدت سے جل جائیں گے