عامر سہیل

عامر سہیل

نظمیں کہنے کا فن ہم نے

    نظمیں کہنے کا فن ہم نے بھولپنے اور بچپن کے دالان سے سیکھا اوزاروں، ہتھیاروں سے اور اونٹوں کی کوہان سے سیکھا آسائش میں گھری ہوئی خوش فہمی کاٹی بارش کے چھینٹے تھے یا تیزاب بدن پر بے خوابی کی چھتری لے کر شہر میں گھومے۔۔۔ صحرا میں گزران سے سیکھا شہ رگ پر اک خنجر نے جو گھات لگائی شہوت کو مہجوری کے دانتوں سے پیسا دو ہونٹوں کی گرہ لگائی کُرتی کے اور انگیا کے ہیجان سے سیکھا نیم کے پتوں کا سرگم، شیشم کی چھاؤں مہندی کی توہین سے سہما ہوا وہ گاؤں کاجل کے اپمان سے سینچی گئی حویلی دیے کی لو سے تڑخ گئی اک رات اکیلی رات نے جھر جھر ۔۔۔ جھرنا اک مہمان سے سیکھا انگاروں پر پیر دھرے تو چلنا آیا شریانوں میں دھوپ بھری تو جلنا آیا ابر ہوا طوفان سے سیکھا ستلج کی دلداری سے مہران سے سیکھا نظمیں کہنے کا فن ہم نے صحرا میں گزران سے دیکھا!