نظم کی ٹھمری
-
نظم بنارس والی ٹھمری کلکتے کی داسی بھیتر میں درگا کا آنگن آنگن بیچ اُداسی ہے ہے بھیتر چاک نہ کریو ہے ہے رات ذرا سی راتوں لمبی باتیں اس کی باتوں کی رسیا سی صر صر گوٹھ نہ جیو موہن سُن سُن بہے ہوا سی جگ تیری اک مٹھی اندر جگ تیرا چپراسی نیناں بیچ دھویں کا پھیرا رات ہنسے مدراسی! بھیتر میں ایرانی کجرا چاک بنے سنیاسی موتی چگ کے ہنس نہ پلئے عمر پڑی ہے خاصی!